تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں