تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- چار یار نبی دے چار یار حق
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،