حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کیلئے حاضر غلام ہو جائے
میں صرف دیکھ لوں اک بار صبح طیبہ کو
بلا سے پھر مری دنیا میں شام ہو جائے
تجلیات سے بھر لوں میں کاسئہ دل و جاں
کبھی جو ان کی گلی میں قیام ہو جائے
حضور آپ جو سن لیں تو بات بن جائے
حضور آپ جو کہہ دیں تو کام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
ملے مجھے بھی زبان ِ بو صیری و جامی
مرا کلام بھی مقبول عام ہو جائے
مزہ تو جب ہے فرشتے یہ قبر میں کہہ دیں
صبیح! مدحت خیر الانام ہو جائے
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
حالیہ پوسٹیں
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا