دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
خار اس گلستاں کے پھولوں سے بھی نیارے ہیں
حسنِ خاکِ طیبہ کو کس سے تشبیہ دیویں
ذرے خاکِ طیبہ کے چاند سے بھی پیارے ہیں
طیبہ والے آقا کی شان کیا بتاؤں میں
عرشی انھیں اپنا کہیں ہم کہیں ہمارے ہیں
والضحیٰ کے چہرے کا خود خدا شیدائی ہے
گیسو میرے آقا کے حق نے خود سنوارے ہیں
والضحیٰ یٰسیں طٰحٰہ میرا پیارا کملی والا
حق نے کس محبت سے نام یہ پکارے ہیں
دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا