دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
خار اس گلستاں کے پھولوں سے بھی نیارے ہیں
حسنِ خاکِ طیبہ کو کس سے تشبیہ دیویں
ذرے خاکِ طیبہ کے چاند سے بھی پیارے ہیں
طیبہ والے آقا کی شان کیا بتاؤں میں
عرشی انھیں اپنا کہیں ہم کہیں ہمارے ہیں
والضحیٰ کے چہرے کا خود خدا شیدائی ہے
گیسو میرے آقا کے حق نے خود سنوارے ہیں
والضحیٰ یٰسیں طٰحٰہ میرا پیارا کملی والا
حق نے کس محبت سے نام یہ پکارے ہیں
دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- تُو کجا من کجا
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں