سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
لیجیے کچھ مزہ جھومتے جھومتے
آپ بیٹھے رہو سجا کر محفلیں
ہوگی رحمت فداتم پر جھومتے جھومتے
آپ بیٹھے رہو میں سناتارہوں
ذکر صل علی جھومتے جھومتے
ایک میرے بھی دامن میں نیکی نہ تھی
آنکھ میں اشک تھے لب پہ نعت نبی
مجھ کو ان کے کرم نے سہارا دیا
آئی ان کی عطا جھومتے جھومتے
بھٹکنے والے ہیں جتنے سنبھل جائیں گے
ان کی یہ شان سن کر سدھر جائیں گے
کملی والے کی زلفوں کی لیکر مہک
وہ چل پڑی ہے ہوا جھومتے جھومتے
عاشقو! ذکر ان کا سنتے رہو
یاد آقا میں روتے رولاتے رہو
بس یہی کام ہے جو خدا کی قسم
روز محشر جو تیرے کام آئے گا
سوچتا ہوں مدینے کو کب جاؤں گا
میں کیسے آداب سارے بجا لاؤں گا
روک لونگآ میں سجدوں سے کیسے جبیں
جب کعبہ سے بڑھ کر مقام آئے گا
کب تیرے درپر تیرا غلام آئےگا
کب میں دیکھوں گا روضہ کی ہریالیاں
کب مدینے سے میرا پیام آئے گا
کب مدینے سے میرا پیام آئے گا
سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
حالیہ پوسٹیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- صانع نے اِک باغ لگایا