کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
ہر کوئی اپنے واسطے نام تیرا جپا کرے
خالقِ کائنات بھی عرش کی جلوہ گاہ میں
ذکر تیرا کِیا کرے ذکر تیرا سنا کرے
اپنے خالق کی طرح تو بھی ہے پردوں میں نہاں
تیری شان کو بیاں کوئی کرے تو کیا کرے
جسکو بھی تیری ذات سے نسبت ہوئی دمک گیا
جو تیرے در پہ جھک گیا نار سے کیوں ڈرا کرے
بن دیکھے جسکی چاہ میں لاکھوں تڑپ رہے ہیں دل
محبوؔب دیکھ لے وہ در خود آنکھ سے خدا کرے
کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
حالیہ پوسٹیں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں