لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری