لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا