یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم