یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی
مل گئی دل کو غم سے رہائی
جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ
اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی
مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ
ان کے در تک ہے میری رسائی
پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو
اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی
جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا
اُس نے ایماں کی دولت گنوائی
یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
حالیہ پوسٹیں
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- چار یار نبی دے چار یار حق
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- زہے عزت و اعتلائے محمد