دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
تو پکار اٹھے گا ہر نبی تو عظیم ہے تو مہان بھی
تیرے نام کتنے ہیں دلربا یا مصطفےٰ شمسُ الضحیٰ
تیرے نام پہ میری جاں فدا میری جاں تو کیا یہ جہان بھی
تیرے نامِ نامی کی قدر تو کوئی پوچھے ربِ جلیل سے
کہ عذابِ چانٹا سے بچ گیا تیرا نام لے کے شیطان بھی
تیری صفتِ جود و عطا شاہا ہے محیط دونوں جہان پر
تو شفیعِ روزِ جزا بھی ہے ہے یہ میرا دین و ایمان بھی
تیری ذات محورِ زندگی سرِ عرش سے دمِ فرش تک
تو ہے رب کا پیارا رسول بھی اور عاصیوں کا ہے مان بھی
دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
حالیہ پوسٹیں
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- رُبا عیات
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع