شاہ عبدالحق محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
یَا صَاحِبَ الۡجَمَالِ وَیَا سَیِّدَالۡبَشَر
مِنۡ وَّجۡہِکَ الۡمُنِیۡرِ لَقَدۡ نُوِّرَ الۡقَمَرُ
لَا یُمۡکِنِ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ
بعد از خُدا بزرگ تُو ئی قِصّۂ مُختصر
ترجمہ
اے صاحب الجما ل اور اے انسانوں کے سردار
آپ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا
آپ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں
قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ہی بزرگ ہیں
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
حالیہ پوسٹیں
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا