شاہ عبدالحق محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
یَا صَاحِبَ الۡجَمَالِ وَیَا سَیِّدَالۡبَشَر
مِنۡ وَّجۡہِکَ الۡمُنِیۡرِ لَقَدۡ نُوِّرَ الۡقَمَرُ
لَا یُمۡکِنِ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ
بعد از خُدا بزرگ تُو ئی قِصّۂ مُختصر
ترجمہ
اے صاحب الجما ل اور اے انسانوں کے سردار
آپ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا
آپ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں
قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ہی بزرگ ہیں
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
حالیہ پوسٹیں
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے