یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
آنکھیں مجھے دی ہیں تو مدینہ بھی دکھا دے
سننے کی جوقوت مجھے بخشی ہے خداوند
پھر مسجد نبوی کی اذانیں بھی سنا دے
حوروں کی نہ غلماں کی نہ جنت کی طلب ہے
مدفن میرا سرکار کی بستی میں بنا دے
منہ حشر میں مجھ کو نہ چھپانا پڑے یارب
مجھ کو تیرے محبوب کی کملی میں چھپادے
مدت سے میں ان ہاتھوں سے کرتاہوں دعائیں
ان ہاتھوں میں اب جالی سنہری وہ تھمادے
عشرتؔ کو بھی اب خوشبوئے حسان عطاکر
جو لفظ کہے وہ تو اسے نعت بنا دے
یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
حالیہ پوسٹیں
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک