شاہ عبدالحق محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
یَا صَاحِبَ الۡجَمَالِ وَیَا سَیِّدَالۡبَشَر
مِنۡ وَّجۡہِکَ الۡمُنِیۡرِ لَقَدۡ نُوِّرَ الۡقَمَرُ
لَا یُمۡکِنِ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ
بعد از خُدا بزرگ تُو ئی قِصّۂ مُختصر
ترجمہ
اے صاحب الجما ل اور اے انسانوں کے سردار
آپ کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا
آپ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں
قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ہی بزرگ ہیں
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
حالیہ پوسٹیں
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے