میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے