میرے مولا کرم ہو کرم
تجھ سے فریاد کرتے ہیں ہم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
یہ زمیں اور یہ آسما
تیرے قبضے میں ہیں دو جہاں
سب پہ تو ہی تو ہے مہرباں
ہم تیرے در سے جائے کہاں
سب کی سنتا ہے تو ہی صدا
تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
بے کسوں کو سہارا ملے
ڈوبتوں کو کنارا ملے
سر سے طوفان پل میں ٹلے
جو تیرا یک اشارا ملے
تو جو کر دے مہربانیاں
دور ہو جائے ہر ایک غم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
میرے مولا کرم ہو کرم
حالیہ پوسٹیں
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا