حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو