حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے