حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے
جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے
جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے
ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے
قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے
ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے
میرے مولا کرم کر دے
حالیہ پوسٹیں
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- نبیؐ کا لب پر جو ذکر ہے بےمثال آیا کمال آیا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب